Posts

Showing posts from August, 2020

سی پی اور والدین کے لئے راہنمائی

Image
 سی پی کے علاج کے لیے والدین کے لئے کچھ راہنمائی پیش خدمت ہے والدین کے لئے پہلی مرتبہ یہ قبول کرنا بہت مشکل ہو تا ہے کہ بچے کو ایسی کوئی بیماری ہے۔وہ بچے کو بہت سے ہسپتالوں میں معائنہ کے لیے لیکر جاتے ہیں،اس امید کے ساتھ ک کہیں نہ کہیں سے انکو کوئی یہ بتایا جائے کہ بچے کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس لیے والدین کو کچھ وقت لگتا ہے اس بات کو قبول کرنے کے لیے۔اس کے لیے میں والدین کو مشورہ دے سکتا ہوں کہ آپ کس ماہر نفسیات ڈاکٹر کو ایک بار ضرور سنیں۔ اسکے بعد آپ اس کے علاج کے لیے مختلف ڈاکٹر کے پاس جاے گے۔ تو آپ کو اب کسی فزیوتھیراپسٹ کے پاس جانا ہوگا ۔ فزیوتھیراپسٹ آپکے بچے کا علاج بذریعہ ورزش کرتے ہیں  یہ بہت اچھا ہو گا آگر آپ پہلے دن سے ہی ورزشیں شروع کر دیں ۔جلدی علاج شروع کرنے کے دوہرے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ کچھ بچوں کو جھٹکے بھی لگتے ہیں ایسے بچوں کو فوراً کس چائلڈ نیورولجسٹ کو چیک کروائیں۔ایسے بچوں کو کچھ عرصہ دوای استعمال کرنا ہوتی ہے۔ ایک بہت اہم مسئلہ ان بچوں کے فیڈنگ کے متعلق ہے بچوں کو فیڈنگ کرنے میں مشکل پیش آ تی ہے۔اور اس کے لیے والدین کو کافی مشکل بھی پیش آتی ہے۔ تو اسکے لیے...

سی پی اور سرجری کا کر دار

Image
آج کے پوسٹ میں ہم سی پی اور سرجری کے کردار  پر بحث کریںگے۔سی پی کا ہر فرد دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔کچھ بچوں کو بہت کم اور ہلکی نوعیت کی بیماری ہو سکتی ہے اور کچھ بچوں کا مسلہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ سی پی میں پٹھوں کے کھچاؤ کی وجہ سے جوڑ جڑنا شروع ہو سکتے ہے۔یہ مسئلہ اس وقت آتا ہے جب بچے کو لمبے عرصے تک ورزشیں نہ کروائی گئی تھی۔ اس صورت حال میں سرجری نا گزیر ہو جاتی ہے۔سرجری کے بعد بھی ورزشیں چارج رکھنا ہوتی ہے۔ اب دیکھیں گے ک سرجری کس نو عیت کی ہوتی ہے۔پٹھوں کے کھچاؤ کی وجہ سے پٹھوں کی لمبائی میں کمی ہو جاتی ہے۔ایسا طریقہ علاج مو جو د ہے جس میں ہلکا سا کٹ لگا کر پٹھے کی لمبائی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔یے سرجری orthopaedic surgeon سرانجام دیتے ہیں۔