Posts

سی پی اور والدین کے لئے راہنمائی

Image
 سی پی کے علاج کے لیے والدین کے لئے کچھ راہنمائی پیش خدمت ہے والدین کے لئے پہلی مرتبہ یہ قبول کرنا بہت مشکل ہو تا ہے کہ بچے کو ایسی کوئی بیماری ہے۔وہ بچے کو بہت سے ہسپتالوں میں معائنہ کے لیے لیکر جاتے ہیں،اس امید کے ساتھ ک کہیں نہ کہیں سے انکو کوئی یہ بتایا جائے کہ بچے کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس لیے والدین کو کچھ وقت لگتا ہے اس بات کو قبول کرنے کے لیے۔اس کے لیے میں والدین کو مشورہ دے سکتا ہوں کہ آپ کس ماہر نفسیات ڈاکٹر کو ایک بار ضرور سنیں۔ اسکے بعد آپ اس کے علاج کے لیے مختلف ڈاکٹر کے پاس جاے گے۔ تو آپ کو اب کسی فزیوتھیراپسٹ کے پاس جانا ہوگا ۔ فزیوتھیراپسٹ آپکے بچے کا علاج بذریعہ ورزش کرتے ہیں  یہ بہت اچھا ہو گا آگر آپ پہلے دن سے ہی ورزشیں شروع کر دیں ۔جلدی علاج شروع کرنے کے دوہرے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ کچھ بچوں کو جھٹکے بھی لگتے ہیں ایسے بچوں کو فوراً کس چائلڈ نیورولجسٹ کو چیک کروائیں۔ایسے بچوں کو کچھ عرصہ دوای استعمال کرنا ہوتی ہے۔ ایک بہت اہم مسئلہ ان بچوں کے فیڈنگ کے متعلق ہے بچوں کو فیڈنگ کرنے میں مشکل پیش آ تی ہے۔اور اس کے لیے والدین کو کافی مشکل بھی پیش آتی ہے۔ تو اسکے لیے...

سی پی اور سرجری کا کر دار

Image
آج کے پوسٹ میں ہم سی پی اور سرجری کے کردار  پر بحث کریںگے۔سی پی کا ہر فرد دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔کچھ بچوں کو بہت کم اور ہلکی نوعیت کی بیماری ہو سکتی ہے اور کچھ بچوں کا مسلہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ سی پی میں پٹھوں کے کھچاؤ کی وجہ سے جوڑ جڑنا شروع ہو سکتے ہے۔یہ مسئلہ اس وقت آتا ہے جب بچے کو لمبے عرصے تک ورزشیں نہ کروائی گئی تھی۔ اس صورت حال میں سرجری نا گزیر ہو جاتی ہے۔سرجری کے بعد بھی ورزشیں چارج رکھنا ہوتی ہے۔ اب دیکھیں گے ک سرجری کس نو عیت کی ہوتی ہے۔پٹھوں کے کھچاؤ کی وجہ سے پٹھوں کی لمبائی میں کمی ہو جاتی ہے۔ایسا طریقہ علاج مو جو د ہے جس میں ہلکا سا کٹ لگا کر پٹھے کی لمبائی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔یے سرجری orthopaedic surgeon سرانجام دیتے ہیں۔

سی پی کا علاج کس حد تک ممکن ہے؟

Image
اکثر والدین کا کا سوال یہ ہوتا ہے کے اس بیماری کا علاج ممکن ہے یا نہیں؟کیا ہمارا بچہ چلنے کے قابل ہو جائے گا؟کیا ہمارا بچہ مکمل طور پر ٹھیک ہو جائے گا؟کچھ اس طرح کے سوالات کا واسطہ پڑتا ہے۔ میں دس سال سے ایسے بچوں کے علاج میں مصروف رہا ہوں۔ اور میری رائے کے مطابق اکثر معا لج ان سوالات کے صحیح سے جواب نہیں دے پاتے۔وہ والدین کو مطمئن نہیں کر پاتے۔نتیجتا والدین کو معالج تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ سی پی میں دماغ کے خلیات مستقل طور پر مر جاتے ہیں۔دماغ کے خلیات کی یہ خصوصیت ہے کہ جب ایک مرتبہ انکی موت ہو جائے تو دوبار وہ ژندہ نہیں ہو سکتے۔البتہ دماغ کے تندرست حصے میدان میں آتے ہیں اور اپنے کام کے ساتھ وہ مردہ خلیات کا کام بھی سرانجام دیتے ہیں۔ اب ان سوالات کے جوابات پر آتے ہیں۔ کیا ہمارا بچہ مکمل طور پر ٹھیک ہو جائے گا؟اسکا جواب نہیں ہے،لیکن روزانہ کی ورزشیں مدد گار ثابت ہو تی ہے۔اپ کا معالج بچے کی نشوونما کے مطابق ورزشیں تیار کرتا ہے۔ہر بچے کا علاج دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ بچے اس قابل ہو جاتے ہیں  کہ سہارے سے چلنے لگ جاے۔ https://paediatric-physical-therapy-exercise-for.business.site/ https://w...

سی پی کی کتنی اقسام ہے؟

Image
اگر ہم سی پی کی اقسام پر بات کریں  تو اس میں آپ کو کچھ مختلف قسم کے بچے ملیں گے ۔ Spastic cerebral palsy: اس میں پٹھے بہت زیادہ سخت بہت ہوتے ہیں اور اکڑاؤ بھی ہوتا ہے۔ Athetoid cerebral palsy اس میں بچہ اپنے جسم کی کی حرکات کو کنٹرول  نہیں کر سکتا۔ Low tone cerebral palsy: اس میں پٹھے  بہت کمزور ہوتے ہیں  اور پٹھوں  کی سختی بھی بہت کم ہوتی ہے Ataxic cerebral palsy اس میں بچہ سیدھی قطار میں چل نہیں سکتا۔ visit our facebook page https://paediatric-physical-therapy-exercise-for.business.site/ https://www.facebook.com/khawajaarshadhospital/?modal=admin_todo_tour

سی پی کی وجوہات کیا ہے؟

Image
سی پی کی بہت سی وجوہات ہے ۔ کچھ وجوہات کا تعلق پیدا ہونے سے پہلے  ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے۔حمل کے دوران بچے کی نشونما پر پر کچھ پچیدگیاں آ سکتی ہیں۔سی پی کی ایک بڑی وجہ پیدائش کے دوران آکسیجن کی کمی واقع ہو جانا ہے۔اس سے دماغ کے کے کسی حصے کو آکسیجن اور خون کی فراہمی  نہیں ملتی۔دماغ ایک ایسی ساخت ہے جو  خون کی فراہمی کی کمی کو تھوڑی دیر کے  لئے بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ اور فورا  سے دماغ کے کے خلیوں  کی موت واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے۔اسی طرح کچھ بچے پیدا ہونے کے بعد روتے نہیں ہے جو کہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ بچے کے پھیپھڑوں نے صحیح سے کام نہیں کیا۔اس لیے پیدائش کے فورا بعد بچے کا رونا بہت ضروری ہے۔پھیپھڑوں  کا  کام دماغ کو آکسیجن  مہیا کرناہے اور اگر اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد روئے گا نہیں تو اس کے پھیپھڑے صحیح سے کام نہیں کریں گے اور دماغ کو آکسیجن بھی نہیں ملے گی ۔ سی پی کی ایک اور بہت بڑی وجہ بچے کا اپنے ٹائم سے پہلے پیدا ہو جانا ہے ۔حمل کا وقت  تقریباً 37 ہفتوں سے لے کر 41 ہفتے ہوتا ہے۔ اگر بچہ 37 ہفتوں سے پہلے پیدا ہو رہا ہے ہ...

سیریبرل پالسی کیا ہے؟

Image
سیریبرل پالسی ، جس کو سی پی بھی  کہ سکتے ہے، بچوں  کی ایک بیماری ہے، جس کا تعلق بچوں کے پٹھوں کی قوت میں کمی اور ان کی حرکات میں کمی ہے۔ہمارا دماغ ہمارے جسم کے تمام حصوں کو کنٹرول کرتا ہے۔پٹھوں کے کنٹرول کا تعلق بھی دماغ سے ہے۔ اگر دماغ کے کسی حصے پر چوٹ لگ جاے  یاپھرکسی وجہ سے آکسیجن کی کمی ہو جائے تو دماغ کا وہ حصہ اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ سی پی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔۔اللہ رب العالمین نے ہمارے دماغ کے بہت سے حصے بنا ے ہے اور ہر حصے کا کام بھی مختلف ہے۔جیسے کہ دماغ کے سامنے والے حصے کا کام ذہانت،اعلی دماغی افعال اور پٹھوں کی حرکت کو کنٹرول کرنا ہے۔اسی طرح درمیان کا دماغ جسم کی ہمآہنگی کو کنٹرول کرتا ہے۔اپ کوئی بھی کام سوچیں،اس کام کو سرانجام دینے کےلئے دماغ کا کوئی نہ کوئی حصہ دستیاب ہوتا ہے۔اسی طرح دماغ کا ایک حصہ پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ہے۔سی پی میں ایک تو پٹھے بھت آکر جاتے ہے آور دوسرا دماغ کے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔پٹھے ایک قسم کے فالج میں رہتے ھے۔اس کے علاوہ اس بیماری میں جوڑوں پر اکڑاؤ بھی آسکتا ہے۔کچھ بچوں میں اس بیماری میں جھٹکے بھی لگتے ہیں لیکن سب بچوں م...